ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / شمالی کوریا کی طرف سے بیلسٹک میزائل کا نیا تجربہ ناکام

شمالی کوریا کی طرف سے بیلسٹک میزائل کا نیا تجربہ ناکام

Sun, 16 Apr 2017 17:18:48    S.O. News Service

سیؤل16اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)شمالی کوریا نے اتوار سولہ اپریل کو اپنے مشرقی ساحلی علاقے سے ایک نئے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیاجوامریکااورجنوبی کوریاکے مطابق ناکام رہا۔ شمالی کوریا نے کل ہفتے کو ایک بڑی فوجی پریڈ میں اپنے اسلحے کی نمائش کی تھی۔جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیؤل سے ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق جنوبی کوریائی حکومت اورامریکی فوجی ذرائع نے تصدیق کر دی ہے کہ اس کمیونسٹ ریاست کی طرف سے کی گئی  بیلسٹک میزائل کے تجربے کی تازہ ترین کوشش ناکام رہی۔بحرالکاہل میں امریکی فوجی دستوں کی کمان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا نے اپنے اس نامعلوم طرز کے بیلسٹک میزائل کا تجربہ سِنپو کے بندرگاہی شہر سے کیا، لیکن یہ میزائل فائر کیے جانے کے فوراََبعدفضا میں پھٹ گیا۔جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ ابھی ایک روز پہلے ہی شمالی کوریا نے اپنے بانی کِم اِل سُنگ کے 105 ویں یوم پیدائش کے موقع پر پیونگ یانگ میں اہتمام کردہ ایک بہت بڑی فوجی پریڈ میں اپنے ہتھیاروں کی بھرپور نمائش کی تھی، جس میں یہ بیلسٹک میزائل بھی شامل تھا۔ اس پریڈ کے موقع پر موجودہ شمالی کوریائی رہنما اور کِم اِل سُنگ کے پوتے کِم جونگ اُن بھی موجودتھے۔شمالی کوریا نے ہفتہ پندرہ اپریل کے روز ایک بڑی فوجی پریڈ میں اپنے اسلحے کی نمائش کی تھی۔شمالی کوریا میں پیونگ یانگ حکومت نے یہ تازہ ترین لیکن ناکام ہو جانے والا بیلسٹک میزائل ٹیسٹ ایک ایسے وقت پر کیا ہے، جب امریکی نائب صدر مائیک پینس آج اتوار ہی کے روز جنوبی کوریا کے ایک دورے پر سیؤل پہنچ رہے ہیں۔امریکی حکومتی ذرائع کے مطابق مائیک پینس خطے کا مجموعی طور پر یہ چار روزہ دورہ اس مقصد کے تحت کر رہے ہیں کہ جزیرہ نما کوریا پر کمیونسٹ کوریا کی مسلسل جارحانہ پالیسیوں کے خلاف اس علاقے میں واشنگٹن کے اتحادی ملکوں کو امریکا کی طرف سے مکمل حمایت اور تعاون کی یقین دہانی کروا سکیں۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق نائب صدر مائیک پینس آج جیسے ہی الاسکا سے سیؤل کے لیے روانہ ہوئے، تو شمالی کوریا کے نئے میزائل تجربے کی خبر ملنے پر ان کو فوری طور پر اطلاع کر دی گئی۔اس بارے میں امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکی صدر اور ان کے فوجی مشیروں کی ٹیم کو بھی شمالی کوریا کے اس نئے تجربے سے آگاہ کر دیا گیا۔ میٹس نے اس بارے میں مزید کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔اسی دوران مائیک پینس کے دورہ جنوبی کوریا سے قبل ایک اعلیٰ امریکی فوجی اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ کمیونسٹ کوریا کی طرف سے مسلسل بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر امریکا اپنے طور پر پہلے ہی فوجی امکانات کا جائزہ بھی لے رہا ہے۔
 


Share: